American Mehndi Design

Mehndi, also known as henna, is a form of body art that has been traditionally practiced in India, Pakistan, and other parts of South Asia. However, in recent years, the art of Mehndi has gained popularity all over the world, including the United States. American Mehndi designs are a fusion of traditional Indian henna patterns and modern American styles.

Some popular American Mehndi designs include:

  1. Mandala: Mandala designs are intricate and symmetrical, often featuring geometric shapes and patterns. These designs are popular in American Mehndi as well, and can be used to create a beautiful and eye-catching design on the hands or feet.
  2. Floral: Floral designs are a staple of traditional Indian henna art, but they can also be incorporated into American Mehndi designs. Flowers such as roses, sunflowers, and daisies can be used to create a delicate and feminine design.
  3. Animal Prints: Animal prints, such as leopard spots and zebra stripes, are a popular element in American Mehndi designs. These designs can add a bold and edgy element to the traditional henna art.
  4. Personalization: American Mehndi designs often incorporate personalized elements, such as the initials of the person or a special date. This adds a unique touch to the design and makes it more meaningful.

Overall, American Mehndi designs are a beautiful fusion of traditional Indian henna art and modern American styles. They offer a unique and creative way to express oneself and create a stunning work of body art.

 

 

 

 

 

Read More

غسل کے فرائض

غسل کے تین فرائض (Ghusal ke Faraiz)

  1. کُلی کرنا
  2. ناک میں پانی چڑھانا
  3. تمام ظاہِر بدن پرپانی بہانا۔

۱.کُلّی کرنا

منہ میں تھوڑا سا پانی لے کر پچ کر کے ڈال دینے کا نام کلی نہیں۔ بلکہ منہ کے ہر پرزے، گوشے، ہونٹ سے حلق کی جڑ تک ہر جگہ پانی بہ جائے۔ اسی طرح داڑھوں کے پیچھے گالوں کی تہ میں، دانتوں کی کھِڑکیوں اور جڑوں اور زبان کی ہر کروٹ پر بلکہ حلق کے کَنارے تک پانی بہے۔ روزہ نہ ہو تو غَرغَرہ بھی کر لیجئے کہ سنّت ہے۔

دانتوں میں چھالیہ کے دانے یا بوٹی کے ریشے وغیرہ ہوں تو ان کو چھڑانا ضروری ہے۔ ہاں اگر چھڑانے میں ضرر کا اندیشہ ہو تو معاف ہے۔ غسل سے قبل دانتوں میں ریشے وغیرہ محسوس نہ ہوئے اور رَہ گئے نماز بھی پڑھ لی بعد کو معلوم ہونے پرچھڑا کر پانی بہانا فرض ہے۔ پہلے جو نماز پڑھی تھی وہ ہو گئی۔ جو ہلتا دانت مسالے سے جمایا گیا یا تار سے باندھا گیا اور تار یا مسالے کے نیچے پانی نہ پہنچتا ہو تو معاف ہے۔  جس طرح کی ایک کلی غسل کیلئے فرض ہے اِسی طرح کی تین کلیاں وضو کیلئے سنت ہیں۔

۲.ناک میں پانی چڑھانا

جلدی جلدی ناک کی نوک پر پانی لگا لینے سے کام نہیں چلے گا۔ بلکہ جہاں تک نرم جگہ ہے یعنی سخت ہڈی کے شروع تک دُھلنا لازِمی ہے۔ اور یہ یوں ہو سکے گا کہ پانی کو سونگھ کر اوپر کھینچئے۔ یہ خیال رکھئے کہ بال برابربھی جگہ دُھلنے سے نہ رہ جائے ورنہ غسل نہ ہو گا۔ ناک کے اندر اگر رِینٹھ سوکھ گئی ہے تو اس کا چھڑانا فرض ہے۔ نیز ناک کے بالوں کا دھونا بھی فرض ہے۔

۳. تمام ظاہری بدن پر پانی بہانا

سَر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے تلووں تک جسم کے ہر پرزے اور ہر ہر رونگٹے پر پانی بہ جانا ضروری ہے۔ جسم کی بعض جگہیں ایسی ہیں کہ اگر احتیاط نہ کی تو وہ سوکھی رہ جائیں گی اور غسل نہ ہو گا۔ لہٰذا غسل میں خاص احتیاط سے کام لیں۔

Read More
Leave a comment